ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگال: بجٹ میں ملک کے عام شہریوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، حزب اختلاف

بنگال: بجٹ میں ملک کے عام شہریوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے، حزب اختلاف

Wed, 03 Feb 2021 11:25:10    S.O. News Service

کلکتہ، 3؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس اور بائیں محاذ نے مرکزی بجٹ کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں ملک کے عام شہریوں کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ سی پی ایم پولٹ بیورو کے ممبر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد سلیم نے کہا بجٹ کے ذریعہ صنعتکاروں کی جیبیں بھرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے بجٹ کو ملک کے سرمایہ کو فروخت کرنے والا بجٹ کہا جا سکتا ہے۔

محمد سلیم نے کہا کہ کورونا وباکے دور میں ضرورت تھی اس بجٹ میں وباکی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نبردآزما ہونے کی کوشش کی جاتی اورصنعتی انفراسٹرکچر کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی ضرورت تھی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سابق رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے جو بھی وعدہ کیا تھا اس کو نہیں نبھایا گیا۔

بہتر ہوتاکہ او ایلکس پر ملک کی کمپنیوں کوفروخت کرنے کا اشتہار دیدیا جاتا۔ سی پی ایم کے سابق رکن پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت کی نجکاری پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ رقم بینک میں جمع کی گئی ہے اور مودی حکومت بینک کی نجکاری کر رہی ہے۔

اسمبلی میں سی پی ایم کی پارلیمانی پارٹی کے رہنما سوجن چکرورتی نے کہا کہ بنگال میں اسمبلی انتخابات ہیں اس لئے بنگال میں سڑک کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا ۔انہوں کہا کہ وبا کی وجہ سے غربت کی زندگی گزاررہے لوگوں کو اٹھانے کےلئے اس بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اس بجٹ میں کوئی بھی منصوبہ اور لائحہ عمل نہیں ہے ۔

سینئر کانگریسی لیڈر و ریاستی اپوزیشن رہنما عبدالمنان نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے جب لوگوں کی زندگیاں ناقابل برداشت ہوچکی ہیں پٹرول اور ڈیزل پر سیس لگانے کے نتیجے میں ، دیگر تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا ۔اس حکومت کو مہنگائی سے نکالنے اور عوام کو راحت دینے کی کوئی فکر نہیں ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر ادھیررنجن چودھری نے کہا کہ چند ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اور سرکاری کمپنیوں کی نج کاری کے مقصد سے یہ بجٹ بنایا گیا ہے اس کے علاوہ اس بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔


Share: